..:: اراکین ::..
..:: اشتہارات ::..

Naayaaft | Ahmad Faraz | Urdu Poetry


ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو

وفا پرست صلیبیں

عجیب رت تھی کہ ہر چندپاس تھا وہ بھی

عقیدت

سچ کا زہر

ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہ

کون سا نام تجھ کو دوں؟

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

تخلیق

یہ کیسی رت ہے

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

کب یاروں کا تسلیم نہیں کب عدو انکاری ہے

میں کیوں اداس نہیں

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے

گئی رت

کردار

نظر بجھی تو کرشمے بھی روز و شب کے گئے

روزنا جرمن نثراد

بدن میں آگ سے چہرہ گلاب جیسا ہے

کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا

نہ اب جواز نہ موقع ہے ہاتھ ملنے کا

گزرا ہوں جس طرف سے بھی پتھر لگے مجھے

مرے قلم کی رہہ نوک جس کے خنجر کی

مزاج ہم سے جدا نہ تھا اس کا

چلو اس سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو

تڑپ اٹھوں بھی تو تری دہائی نہ دوں

درد کی راہیں نہیں آساں ذرا آہستہ چل

گلہ نہ کر دلِ ویراں کی نا سپاسی کا

صحرا تو بوند کو بھی ترسائے گا

یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت

سائے کی طرح نہ خود سے رم کر

دولتِ درد کو دنیا سے چھپا کر رکھنا

یار آت ہے تو کیوں اس سے گلہ ہوتا ہے

چاند اور میں

وارفتگی میں دل کا چلن انتہا کا تھا

لگا کر زخم بدن پر قبائیں دیتا ہے

چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرتی

فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہوا


If you are certain there's composing mistake or in cause of any broken link, please guide us by sending page/text details to contact@ahmadfaraz.com or use Contact Form



پچھلا صفحہ

| More

 
..:: فھرست ::..
..:: اشتہارات ::..


Go To Top