..:: اراکین ::..
..:: اشتہارات ::..

Ahmad Faraz | Na Beena Shehar Mein Ayeenah


اے دیس سے آنے والے بتا

ابیات بحضور سرورکائینات

نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یار درینہ

گئی رُتوں میں توشام و سحر نہ تھے ایسے

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کا رن یہ زہر پیا ہے

اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں

سفید جھڑیاں

جان کی پروا کس کو ہو جب قاتل ہو یاروں جیسا

شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

صنم تراش پر آداب کافرانہ سمجھ

طاہرہ کے کے لئے ایک نظم

ناسپاس

میں کس کا بخت تھا مری تقدیر کون تھا

اس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری

جس کی جانب سے زمانہ ہوا نامہ نہ پیغام

جائو

آئی بینک

تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری

میں تو ہر طرح کے اسباب ہلاکت دیکھوں

پھرے گا تُو بھی یونہی کُو بکُو ہماری طرح

سرحدیں

جب کی بات

یہ فاصلہ جو پڑا ہے مرے گُماں میں نہ تھا

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

نئی مسافت کا عہد نامہ

میں چُپ رہا تو سارا جہاں تھا مری طرف

جو غیر تھے اسی بات پر ہمارے ہوئے

رات اور چاند میں جب سرگوشی ہوتی ہے

یہ میں بھی کیا ہوں، اُسے بھول کر اُسی کا رہا

ہم جیسے

ایک شعر

دل منافق تھا شب ہجراں میں سویا کیسا

واپسی

اے خدا آج اسے سب کا مقدر کر دے

اپنی طرح ہی کوئی پریشانیوں میں تھا

اُس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھے

یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے

کاریز

ناتمام مسافتیں

اے تُو کہ روز و شب کہ مہ و آفتاب دے

نہ جانے ایسی بھی کیا بات تھی سخن میں مرے

چلو عذاب سہیں دوستی کے یونہی سہی

اتنے چُپ کیوں ہو

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

ہو کوئی تیری داستاں انجمن انمجن کہے

اے مرے یار کی قاتل - مصطفےٰ زیدی کی موت پر

کہاں سے لائیں

بلا سے ہم حصار سنگ پہنچیں

یہ وقت بھی آنا تھا ہمی غم طلبوں پر

دیوار گریہ

دشت نامرادی میں ساتھ کون تھا کس کے

چراغ شام وفا میں جلے نہ تھے ایسے

مرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا

میں زندہ ہوں

جن کے نغموں کو ہیں پیکان عزیز

نا مرادی کا یہ عالم بھی تو اے دل نہ رہے

اک خواب زندگی کے سبھی خواب لے گیا

یہ شہر سحر ذدہ ہے صدا کسی کی نہیں

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

زندگی کی اب نئی رسمیں بنا دی جائیں گی

لب گویا

بیروت - 1

بیروت - 2

آدھی رات میں اذان

اماں مانگو نہ اُن سے جان فگاراں ہم نہ کہتے تھے

خون فروش

سبھی نہیں تھے زمانے سے ہارنے والے

دل کس کے لیے کراہتا ہے

رونے سے ملال گھٹ گیا ہے

دُکھ کی دو اک برساتوں سے کب یہ دل پایاب بھرا

نذر میر

کون تھے وہ جن کو شیوہ تھا جھوٹے باب نہ لکھنا

ہُوا سو ہُوا

جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا

یہ جان کر بھی دونوں کے راستے تھے الگ

جلا وطنی میں


If you are certain there's composing mistake or in cause of any broken link, please guide us by sending page/text details to contact@ahmadfaraz.com or use Contact Form



پچھلا صفحہ - فہرست کُتب

| More

 
..:: فھرست ::..
..:: اشتہارات ::..


Go To Top