..:: اراکین ::..
..:: اشتہارات ::..

Jaanaan Jaanaan | Ahmad Faraz | Urdu Poetry


یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

خواب مرتے نہیں

ہر خواب عذاب ہو چکا

یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدا

جو رنجشیں تھیں جو دل میں غبار تھا نہ گیا

جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گا

مت سوچو

سنا تو ہے کہ نگار بہار راہ میں ہے

سب لوگ لئے سنگ ملامت نکل آئے

اب کس کا جشن مناتے ہو

ابربہار اب کے بھی برسا پرے پرے

شگفتہ دل ہیں کہ غم بھی عطا بہار کی ہے

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے

ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا

اے مرے یار قرح ریز

کہا تھا کس نے عہد وفا کرو اس سے

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے

ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا

سحر کے سورج

وہ تو سب درد کے لمحے تھے

سوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنا

ستم گری کا ہر انداز محرمانہ لگا

جو سزا ہم کو ملے

آزردگان شہر کا جیسا بھی حال ہو

تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا

جسم شعلہ ہے جبھی جامہ سادہ پہنا

سچ بھی جھوٹا ہے

میں نے آغاز سے انجام سفر جانا ہے

میں کہ پھر دشت رفاقت کا سفر کر آیا

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں

تو بہتر ہے یہی

یہ جو نشے ہیں سفر کے نہ اتر جائیں کہیں

آنسو نہ روک دامن زخم جگر نہ کھول

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

ترچ میر

طعنہ زن تھا ہر کوئی ہم پر دل ناداں سمیت

میں تو لب کھول کے پابند سلاسل ٹھہرا

اس دور بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو

قلم سرخرو ہے

آئے ترئ محفل میں تو بے تاب بہت تھے

وفا کے خواب محبت کا آسرا لے جا

دوست بھی دشمن نہ تھے دل بھی عدو میرا نہ تھا

خٹک ناچ

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

نوحہ گروں میں دیدہ تر بھی اسی کا تھا

زلف راتوں سی ہے رنگت ہے اجالوں جیسی

عید کارڈ

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے

ہنسے تو آنکھ سے آنسو رواں ہمارے ہوئے

فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں

میورکا!

تھی مرے جام میں درد مئے تنہائی بہت

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے

انہیں خوش کمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جائو

طعنہ زن کیوں ہے مری بے سر و سامانی پر

اہل تاشقند کے نام

خود آپ اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا

یوں تو محروم نوا کب سے دہن میرا تھا

ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا

ہر دوا درد کو بڑھا ہی دے

کہا نہیں تھا

قامت کو ترے سرو و صنوبر نہیں کہا

اتنا بے رنگ دکھ کو نہیں جانیئے

میں ترا قاتل ہوں

جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے

کشیدہ سر سے توقع عبث جھکائو کی تھی

ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے

میں اکیلا کھڑا ہوں

سلام اس پر

گلیوں میں کیسا شور تھا کیوں بھیڑ سی مقتل میں تھی

If you are certain there's composing mistake or in cause of any broken link, please guide us by sending page/text details to contact@ahmadfaraz.com or use Contact Form



پچھلا صفحہ

| More

 
..:: فھرست ::..
..:: اشتہارات ::..


Go To Top