..:: اراکین ::..
..:: اشتہارات ::..

Bey Aawaaz Gali Koochon Mein | Ahmad Faraz | Urdu Poetry


ناموجود

دوسری ہجرت

جاناں دل کا شہر, نگر-افسوس کا ہے

شعر کسی کے کہنا حرفِ وصال کسی سے

سویا تھا یا جاگ رہا تھا ہجر کی رات

یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہا

ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو

فضا بے ابر شاخیں بے ثمر ہیں

بن باس

شہرِ کتاب اجڑ گیا حرف برہنہ ستر ہوئے

کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو

فیض کے فراق میں

سرو و صنوبر شہر کے مرتے جاتے ہیں

کب تک فگارِ دل کو تو آنکھوں کو نم کریں

قیدِ تنہائی کی چند عبارتیں

آشیاں گم کردہ

پچھلا پہر

بیادِ جاناں

غزالاں تم تو واقف ہو

پاس کیا تھا

چاند رکتا ہے نہ آتی ہے صبا زنداں کے پاس

اے شہر میں تیرا نغمہ گر ہوں

ندیم آنکھیں ندیم چہرہ

ہر کوئی طرہ پیچاک پہن کر نکلا

قاصد کبوتر

عفریت

اب لوگ جو دیکھیں گے تو خواب اور طرح کے

پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

وہ ظلمتیں ہیں کہ شاید قبولِ شب بھی نہ ہوں

نبھائی وضع بسمل انتہا تک

میرے عصر کا موسی

مکین خوش تھے کہ جب بند تھے مکانوں میں

عشق کا شہر بھی دیکھو کیا نیرنگ بھرا ہے

اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو

جانے کس زعم میں مقتل کو سجاتے تم ہو

اک بوند تھی لہو کی سرِ دار تو گری

سارا شہر بلکتا ہے

جلاد

چلو اس شہر کا ماتم کریں

حرف کی شہادت

جب یار نے رختِ سفر باندھا کب ضبط کا یارا اس دن تھا

لباسِ دار نے منصب نیا دیا ہے اسے

رت جگے ہوں کہ بھرپور نیندیں مسلسل اسے دیکھنا

جو کچھ بھی کہیں تو دریدہ دامن کہا جائے

گرفتہ دل عندلیب گھائل گلاب دیکھے

دشمن کا قصیدہ

وفا کے بھیس میں کوئی رقیبِ شہر بھی ہے

ہوائوں کی بشارت

مت قتل کرو آوازوں کو

عجب شہر تھے اور عجب لوگ تھے

یہ کس عذاب سے خائف مرا قبیلہ ہے

جنہیں زعم ِ کمانداری بہت ہے

شہرِ آشوب

محاصرہ

If you are certain there's composing mistake or in cause of any broken link, please guide us by sending page/text details to contact@ahmadfaraz.com or use Contact Form



پچھلا صفحہ

| More

 
..:: فھرست ::..
..:: اشتہارات ::..


Go To Top